ஜெருசலம் இரண்டு முறை தகர்க்கப்படும் முன்னறிவிப்பு Masjithul aqsa




 17:4 وَقَضَيْنَاۤ اِلٰى بَنِىْۤ اِسْرَاۤءِيْلَ فِى الْكِتٰبِ لَـتُفْسِدُنَّ فِى الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيْرًا‏

17:4. நாம் இஸ்ராயீலின் சந்ததியினருக்கு (முன்னறிவிப்பாக தவ்ராத்) வேதத்தில்: “நிச்சயமாக நீங்கள் பூமியில் இருமுறை குழப்பம் உண்டாக்குவீர்கள்; (அல்லாஹ்வுக்கு வழிபடாது) ஆணவத்துடன், பெரும் அழிச்சாட்டியங்கள் செய்பவர்களாக நடந்து கொள்வீர்கள்” என்று அறிவித்தோம்.




17:5 فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰٮهُمَا بَعَثْنَا عَلَيْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِىْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّيَارِ ‌ؕ وَكَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا‏

17:5. எனவே, அவ்விரண்டில் முதலாவது வாக்குறுதி (நிறைவேறும் காலம்) வந்த போது, உங்களுக்கு எதிராக (போரில்) கொடிய வலிமையுடைய நம் அடியார்களை ஏவி விட்டோம்; அவர்கள் உங்கள் வீடுகளில் புகுந்து (உங்களையும். உங்கள் பொருள்களையும்) தேடி (அழித்து) விட்டார்கள்; (இவ்வாறு முதல்) வாக்குறுதி நிறைவேறியது.



Ibn kaseer 


«سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل» حاشیہ نمبر :7

اس سے مراد وہ ہولناک تباہی ہے جو آشوریوں اور اہل بابل کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر نازل ہوئی ۔ اس کا تاریخی پس منظر سمجھنے کے لیے صرف وہ اقتباسات کافی نہیں ہیں جو اوپر ہم صحف انبیاء سے نقل کر چکے ہیں ، بلکہ ایک مختصر تاریخی بیان بھی ضروری ہے ، تاکہ ایک طالب علم کے سامنے وہ تمام اسباب آ جائیں جن کی وجہ سے اللہ تعالی نے ایک حامل کتاب قوم کو امامت اقوام کے منصب سے گرا کر ایک شکست خوردہ ، غلام اور سخت پسماندہ قوم بنا کر رکھ دیا ۔

حضرت موسی کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوئے تو یہاں مختلف قومیں آباد تھیں ۔ حتی ، اموری ، کنعانی ، فرزی ، حوی ، یبوسی ، فلستی وغیرہ ۔ سان قوموں میں بدترین قسم کا شرک پایا جاتا تھا ۔ ان کے سب سے بڑے معبود کا نام ایل تھا جسے یہ دیوتاؤں کا باپ کہتے تھے اور اسے عموما سانڈ سے تشبیہ دی جاتی تھی ۔ اس کی بیوی کا نام عشیرہ تھا اور اس سے خداؤں اور خدانیوں کی ایک پوری نسل چلی تھی ، جن کی تعداد 70 تک پہنچتی تھی ۔ اس کی اولاد میں سب سے زیادہ زبردست بعل تھا جس کو بارش اور روئیدگی کا خدا اور زمین و آسمان کا مالک سمجھا جاتا تھا ۔ شمالی علاقوں میں اس کی بیوی اناث کہلاتی تھی اور فلسطین میں عستارات ۔ یہ دونوں خواتین عشق اور افزائش نسل کی دیویاں تھیں ۔ ان کے علاوہ کوئی دیوتا موت کا مالک تھا ، کسی دیوی کے قبضے میں صحت تھی ، کسی دیوتا کو وبا اور قحط لانے کے اختیارات تفویض کیے گئے تھے ، اور یوں ساری خدائی بہت سے معبودوں میں بٹ گئی تھی ۔ ان دیوتاؤں اور دیویوں کی طرف ایسے ایسے ذلیل اوصاف و اعمال منسوب تھے کہ اخلاقی حیثیت سے انتہائی بدکردار انسان بھی ان کے ساتھ مشتہر ہونا پسند نہ کریں ۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جو لوگ ایسی کمینہ ہستیوں کو خدا بنائیں اور ان کی پرستش کریں ، وہ اخلاق کی ذلیل ترین پستیوں میں گرنے سے کیسے بچ سکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے جو حالات آثار قدیمہ کی کھدائیوں سے دریافت ہوئے ہیں ، وہ شدید اخلاقی گراوٹ کی شہادت بہم پہنچاتے ہیں ۔ ان کے ہاں بچوں کی قربانی کا عام رواج تھا ۔ ان کے معابد زناکاری کے اڈے بنے ہوئے تھے ۔ عورتوں کو دیوداسیاں بنا کر عبادت گاہوں میں رکھنا اور ان سے بدکاریاں کرنا عبادت کے اجزاء میں داخل تھا ۔ اور اسی طرح کی اور بہت سی بداخلاقیاں ان میں پھیلی ہوئی تھیں ۔

تورات میں حضرت موسی علیہ السلام کے ذریعے سے بنی اسرائیل کو جو ہدایات دی گئی تھیں ، ان میں صاف صاف کہہ دیا گیا تھا کہ تم ان قوموں کو ہلاک کر کے ان کے قبضے سے فلسطین کی سرزمین چھین لینا اور ان کے ساتھ رہنے بسنے اور ان کی اخلاقی و اعتقادی خرابیوں میں مبتلا ہونے سے پرہیز کرنا ۔

لیکن بنی اسرائیل جب فلسطین میں داخل ہوئے تو وہ اس ہدایت کو بھول گئے ۔ انہوں نے اپنی کوئی متحدہ سلطنت قائم نہ کی ۔ وہ قبائلی عصبیت میں مبتلا تھے ۔ ان کے ہر قبیلے نے اس بات کو پسند کیا کہ مفتوح علاقے کا ایک حصہ لے کر الگ ہو جائے ۔ اس تفرقے کی وجہ سے ان کا کوئی قبیلہ بھی اتنا طاقتور نہ ہو سکا کہ اپنے علاقے کو مشرکین سے پوری طرح پاک کر دیتا ۔ آخرکار انہیں یہ گوارا کرنا پڑا کہ مشرکین ان کے ساتھ رہیں بسیں ۔ نہ صرف یہ ، بلکہ ان کے مفتوح علاقوں میں جگہ جگہ ان مشرک قوموں کی چھوٹی چھوٹی شہری ریاستیں بھی موجود رہیں جن کو بنی اسرائیل مسخر نہ کر سکے ۔ اسی بات کی شکایت زبور کی اس عبارت میں کی گئی ہے جسے ہم نے حاشیہ نمبر 6 کے آغاز میں نقل کیا ہے ۔

اس کا پہلا خمیازہ تو بنی اسرائیل کو یہ بھگتنا پڑا کہ ان قوموں کے ذریعے سے ان کے اندر شرک گھس آیا اور اس کے ساتھ بتدریج دوسری اخلاقی گندگیاں بھی راہ پانے لگیں ۔ چنانچہ اس کی شکایت بائیبل کی کتاب قضاة میں یوں کی گئی ہے :

” اور بنی اسرائیل نے خداوند کے آگے بدی کی اور بعلیم کی پرستش کرنے لگے ۔ اور انہوں نے خداوند اپنے باپ دادا کے خدا کو جو ان کو ملک مصر سے نکال لایا تھا چھوڑ دیا اور دوسرے معبودوں کی جو ان کے گردا گرد کی قوموں کے دیوتاؤں میں سے تھے ، پیروی کرنے اور ان کو سجدہ کرنے لگے اور خداوند کو غصہ دلایا ۔ اور وہ خداوند کو چھوڑ کر بعل اور عستارات کی پرستش کرنے لگے ، اور خداوند کا قہر اسرائیل پر بھڑکا ۔‘‘

( باب 2 ، آیت 11 ۔ 12 )

اس کے بعد دوسرا خمیازہ انہیں یہ بھگتنا پڑا کہ جن قوموں کی شہری ریاستیں انہوں نے چھوڑ دی تھیں ، انہوں نے اور فلستیوں نے ، جن کا پورا علاقہ غیر مغلوب رہ گیا تھا ، بنی اسرائیل کے خلاف ایک متحدہ محاذ قائم کیا اور پے در پے حملے کر کے فلستین کے بڑے حصے سے ان کو بے دخل کر دیا ، حتٰی کہ ان سے خداوند کے عہد کا صندوق ( تابوت سکینہ ) تک چھین لیا ۔ آخرکار بنی اسرائیل کو ایک فرمانروا کے تحت اپنی ایک متحدہ سلطنت قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ، اور ان کی درخواست پر حضرت سموئیل نبی نے سن 1020 قبل مسیح میں طالوت کا ان کا بادشاہ بنایا ۔ ( اس کی تفصیل سورہ بقرہ ، رکوع 32 میں گزر چکی ہے ) ۔

اس متحدہ سلطنت کے تین فرماںروا ہوئے : طالوت ( سن 1020 تا 1004 ق م ) ، حضرت داؤد علیہ السلام ( سن 1004 تا 965 ق م ) اور حضرت سلیمان علیہ السلام ( سن 965 تا 926 ق م ) ۔ ان فرمانرواؤں نے اس کام کو مکمل کیا جسے بنی اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام کے بعد نامکمل چھوڑ دیا تھا ۔ صرف شمالی ساحل پر فینیقیوں کی اور جنوبی ساحل پر فلستیوں کی ریاستیں باقی رہ گئیں جنہیں مسخر نہ کیا جا سکا اور محض باج گزار بنانے پر اکتفا کیا گیا ۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل پر دنیا پرستی کا پھر شدید غلبہ ہوا اور انہوں نے آپس میں لڑ کر اپنی دو الگ سلطنتیں قائم کر لیں ۔ شمالی فلسطین اور شرق اردن میں سلطنت اسرائیل ، جس کا پایہ تخت آخرکار سامریہ قرار پایا ، اور جنوبی فلسطین اور ادوم کے علاقے میں سلطنت یہودیہ ، جس کا پایہ تخت یروشلم رہا ۔ ان دونوں سلطنتوں میں سخت رقابت اور کشمکش اور روز سے شروع ہو گئی اور آخر تک رہی ۔

ان میں اسرائیل ریاست کے فرمانروا اور باشندے ہمسایہ قوموں کے مشرکانہ عقائد اور اخلاقی فساد سے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور یہ حالت اپنی انتہا کو پہنچ گئی جب اس ریاست کے فرمانروا اخی اب نے صیدا کی مشرک شہزادی ایزیبل سے شادی کر لی ۔ اس وقت حکومت کی طاقت اور ذرائع سے شرک اور بداخلاقیاں سیلاب کی طرح اسرائیلیوں میں پھیلنی شروع ہوئیں ۔ حضرت الیاس اور حضرت الیَسع علیہما السلام نے اس سیلاب کو روکنے کی انتہائی کوشش کی ، مگر یہ قوم جس تنزل کی طرف جا رہی تھی اس سے باز نہ آئی ۔ آخرکار اللہ کا غضب اشوریوں کی شکل میں دولت اسرائیل کی طرف متوجہ ہوا اور نویں صدی قبل مسیح سے فلسطین پر اشوری فاتحین کے مسلسل حملے شروع ہو گئے ۔ اس دور میں عاموس نبی ( سن787 تا 747 قبل مسیح ) اور پھر ہوسیع نبی ( سن 747 تا 735 قبل مسیح ) نے اٹھ کر اسرائیلیوں کو پے در پے تنبیہات کیں ، مگر جس غفلت کے نشے میں وہ سرشار تھے ، وہ تنبیہ کی ترشی سے اور زیادہ تیز ہو گیا ۔ یہاں تک کہ عاموس نبی کو شاہ اسرائیل نے ملک سے نکل جانے اور دولت سامریہ کے حدود میں اپنی نبوت بند کر دینے کا نوٹس دے دیا ۔ اس کے بعد کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ خدا کا عذاب اسرائیلی سلطنت اور اس کے باشندوں پر ٹوٹ پڑا ۔ 721 قبل میں اشور کے سخت گیر فرماںروا سارگون نے سامریہ کو فتح کر کے دولت اسرائیل کا خاتمہ کر دیا ، ہزار ہا اسرائیلی تہ تیغ کیے گیے ، 27 ہزار سے زیادہ با اثر اسرائیلیوں کو ملک سے نکال کر اشوری سلطنت کے مشرقی اضلاع میں تتر بتر کر دیا گیا ، اور دوسرے علاقوں سے لا کر غیر قوموں کو اسرائیل کے علاقے میں بسایا گیا جن کے درمیان رہ بس کر بچا کھچا اسرائیلی عنصر بھی اپنی قومی تہذیب سے روز بروز زیادہ بیگانہ ہوتا چلا گیا ۔

بنی اسرائیل کی دوسری ریاست جو یہودیہ کے نام سے جنوبی فلسطین میں قائم ہوئی ، وہ بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بہت جلدی شرک اور بداخلاقی میں مبتلا ہو گئی ، مگر نسبتہً اس کا اعتقادی اور اخلاقی زوال دولت اسرائیل کی بہ نسبت سست رفتار تھا ، اس لیے اس کو مہلت بھی کچھ زیادہ دی گئی ۔ اگرچہ دولت اسرائیل کی طرح اس پر بھی اشوریوں نے پے در پے حملے کیے ، اس کے شہروں کو تباہ کیا ، اس کے پایہ تخت کا محاصرہ کیا ، لیکن یہ ریاست اشوریوں کے ہاتھوں ختم نہ ہو سکی بلکہ صرف باج گزار بن کر رہ گئی ۔ پھر جب حضرت یسعیاہ اور حضرت یرمیاہ کی مسلسل کوششوں کے باوجود یہودیہ کہ لوگ بت پرستی اور بداخلاقیوں سے باز نہ آئے تو سن 598 قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے یروشلم سمیت پوری دولت یہودیہ کو مسخر کر لیا اور یہودیہ کا بادشاہ اس کے پاس قیدی بن کر رہا ۔ یہودیوں کی بداعمالیوں کا سلسلہ اس پر بھی ختم نہ ہوا اور حضرت یرمیاہ کے سمجھانے کے باوجود وہ اپنے اعمال درست کرنے کے بجائے بابل کے خلاف بغاوت کر کے اپنی قسمت بدلنے کی کوشش کرنے لگے ۔ آخر سن 587 قبل مسیح میں بخت نصر نے ایک سخت حملہ کر کے یہودیہ کے تمام بڑے چھوٹے شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ، یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو اس طرح پیوند خاک کیا کہ اس کی ایک دیوار بھی اپنی جگہ کھڑی نہ رہی ، یہودیوں کی بہت بڑی تعداد کو ان کے علاقے سے نکال کر ملک ملک میں تتر بتر کر دیا ، اور جو یہودی اپنے علاقے میں رہ گئے وہ بھی ہمسایہ قوموں کے ہاتھوں بری طرح ذلیل اور پامال ہو کر رہے ۔

یہ تھا وہ پہلا فساد جس سے بنی اسرائیل کو متنبہ کیا گیا تھا ، اور یہ تھی وہ پہلی سزا جو اس کی پاداش میں ان کو دی گئی ۔


ibnkaseer


"சூரா பானி இஸ்ராயில்" அடிக்குறிப்பு எண்: 7

இது அசீரியர்கள் மற்றும் பாபிலோனியர்களின் கைகளில் இஸ்ரவேலர்கள் மீது வந்த பயங்கரமான அழிவைக் குறிக்கிறது. அதன் வரலாற்றுப் பின்னணியைப் புரிந்து கொள்வதற்கு, ஸஹாஃப் அல் அன்பியாவிலிருந்து நாம் மேற்கோள் காட்டிய பகுதிகளை மட்டும் மேற்கோள் காட்டுவது போதாது, ஆனால் ஒரு சுருக்கமான வரலாற்றுக் குறிப்பும் அவசியம், அதனால் எல்லாம் வல்ல இறைவன் தோற்கடிக்கப்பட்டது. , தேசங்களின் இமாமத் பதவியிலிருந்து ஒரு புத்தகத்துடன் ஒரு மக்களை இறக்கி அடிமைப்படுத்தப்பட்ட மற்றும் கடுமையாக பின்தங்கிய தேசம்.

ஹஸ்ரத் மூஸாவின் மரணத்திற்குப் பிறகு, இஸ்ரேலியர்கள் பாலஸ்தீனத்திற்குள் நுழைந்தபோது, ​​​​இங்கு பல்வேறு நாடுகள் வாழ்ந்தன. கூட, எமோரியர்கள், கானானியர்கள், பெரிசியர்கள், ஹிவியர்கள், ஜெபூசியர்கள், பெலிஸ்தியர்கள் போன்றவர்கள். மிக மோசமான பலதெய்வ வழிபாடு சான் நாடுகளில் காணப்பட்டது. அவர்களின் மிகப் பெரிய கடவுளின் பெயர் எல், அவரை அவர்கள் கடவுளின் தந்தை என்று அழைத்தனர், மேலும் அவர் பொதுவாக ஒரு காளைக்கு ஒப்பிடப்பட்டார். அவரது மனைவியின் பெயர் ஆஷிரா மற்றும் அவரிடமிருந்து 70 வரையிலான கடவுள்கள் மற்றும் தெய்வங்களின் முழு வரிசையும் வந்தது. அவரது சந்ததியினரில் மிகவும் சக்திவாய்ந்தவர் பால், அவர் மழை மற்றும் அழுகையின் கடவுளாகவும், பூமி மற்றும் வானத்தின் உரிமையாளராகவும் கருதப்பட்டார். அவரது மனைவி வடக்கு பிராந்தியங்களில் அனாத் என்றும் பாலஸ்தீனத்தில் அஸ்டாரத் என்றும் அழைக்கப்பட்டார். இந்த இரண்டு பெண்களும் காதல் மற்றும் இனப்பெருக்கத்தின் தெய்வங்கள். இவை தவிர, சில கடவுள் மரணத்தின் எஜமானர், சில தெய்வங்கள் ஆரோக்கியம், சில கடவுளுக்கு கொள்ளைநோய் மற்றும் பஞ்சம் வருவதற்கான அதிகாரங்கள் ஒதுக்கப்பட்டன, இதனால் முழு தெய்வீகமும் பல கடவுள்களாக பிரிக்கப்பட்டது. இந்த தெய்வங்களும் தெய்வங்களும் இத்தகைய இழிவான பண்புகளுடனும் செயல்களுடனும் தொடர்புடையவை, மிகவும் ஒழுக்கக்கேடான மக்கள் கூட அவர்களுடன் தொடர்பு கொள்ள விரும்ப மாட்டார்கள். இப்படிப்பட்ட கேடுகெட்ட மனிதர்களை கடவுளாக ஆக்கி வழிபடுபவர்கள் எப்படி ஒழுக்கத்தின் கீழ்த்தரமான சீரழிவுக்கு ஆளாகாமல் இருக்க முடியும் என்பது இப்போது தெரிகிறது. தொல்பொருள் அகழ்வாராய்ச்சி மூலம் கண்டுபிடிக்கப்பட்ட அவர்களின் நிலைமைகள் கடுமையான தார்மீக வீழ்ச்சிக்கு சாட்சியமளிக்க இதுவே காரணம். குழந்தைகளின் தியாகம் அவர்களிடையே பொதுவானது. அவர்களின் கோவில்கள் விபச்சாரத்தின் கூடாரமாக மாறியது. வழிபாட்டுத் தலங்களில் பெண்களை தேவதாசிகளாக வைத்திருப்பதும், அவர்களைக் கொண்டு தீமை செய்வதும் வழிபாட்டின் ஒரு பகுதியாகும். மேலும் இதே போன்ற பல ஒழுக்கக்கேடுகள் அவர்களிடையே பரப்பப்பட்டன.

ஹஸ்ரத் மூஸா (அலைஹிஸ்ஸலாம்) அவர்கள் மூலம் இஸ்ரவேல் புத்திரருக்குக் கொடுக்கப்பட்ட தோராவில், இந்த நாடுகளை அழித்து, பாலஸ்தீனத்தை அவர்கள் வசம் இருந்து பறித்து, அவர்களுடன் வாழுங்கள், தவிர்க்க வேண்டும் என்று தெளிவாகக் கூறப்பட்டுள்ளது. அவர்களின் தார்மீக மற்றும் மத பிழைகள்.

ஆனால் இஸ்ரேலியர்கள் பாலஸ்தீனத்திற்குள் நுழைந்தபோது, ​​அவர்கள் இந்த அறிவுறுத்தலை மறந்துவிட்டனர். அவர்கள் தங்களுக்கென்று எந்த ஐக்கிய இராச்சியத்தையும் நிறுவவில்லை. அவர் பழங்குடியினரால் பாதிக்கப்பட்டார். அவர்களது குலங்கள் ஒவ்வொன்றும் கைப்பற்றப்பட்ட பிரதேசத்தின் ஒரு பகுதியை எடுத்து பிரிந்து செல்ல விரும்பின. இந்த பிரிவினையின் காரணமாக, அவர்களது குலங்கள் எதுவும் பலதெய்வவாதிகளிடமிருந்து தங்கள் பிரதேசத்தை முழுவதுமாக சுத்தப்படுத்தும் அளவுக்கு சக்தி வாய்ந்ததாக மாற முடியவில்லை. இறுதியாக, விக்கிரக ஆராதனை செய்பவர்கள் தங்களோடு இருப்பதை உறுதி செய்ய வேண்டியிருந்தது. இது மட்டுமின்றி, இஸ்ரேலியர்களால் அடிபணிய முடியாத பல தெய்வீக நாடுகளின் சிறிய நகர-மாநிலங்களும் அவர்கள் கைப்பற்றிய பிரதேசங்களில் இருந்தன. அடிக்குறிப்பு எண் 6 இன் தொடக்கத்தில் நாம் மேற்கோள் காட்டிய சங்கீதத்தின் உரையிலும் இதே புகார் கூறப்பட்டுள்ளது.

இதன் முதல் விளைவு என்னவென்றால், இந்த தேசங்கள் மூலம் அவர்களுக்குள் ஷிர்க் நுழைந்ததையும், படிப்படியாக மற்ற தார்மீக அழுக்குகளும் அதனுடன் சேர்ந்து தங்கள் வழியைக் கண்டுபிடிக்கத் தொடங்கியதை இஸ்ரவேல் புத்திரர் தாங்க வேண்டியிருந்தது. எனவே, அவரது புகார் பைபிளின் நீதிபதிகள் புத்தகத்தில் பின்வருமாறு கூறப்பட்டுள்ளது:

இஸ்ரவேல் புத்திரர் கர்த்தருக்கு முன்பாகப் பொல்லாப்பானதைச் செய்து, பாலிமை ஆராதிக்க ஆரம்பித்தார்கள். எகிப்து தேசத்திலிருந்து தங்களைக் கூட்டிக்கொண்டுவந்த தங்கள் பிதாக்களின் தேவனாகிய கர்த்தரை அவர்கள் கைவிட்டு, தங்களைச் சுற்றியிருந்த தேசங்களின் தெய்வங்களுக்கிடையில் இருந்த மற்ற தெய்வங்களைப் பின்பற்றி வணங்கினார்கள், கர்த்தர் கோபமடைந்தார். அவர்கள் கர்த்தரைக் கைவிட்டு, பாகாலையும் அஷ்டராத்தையும் வணங்கினார்கள், கர்த்தருடைய கோபம் இஸ்ரவேலின்மேல் மூண்டது.

(அத்தியாயம் 2, வசனம் 11-12)

அப்போது அவர்கள் சந்தித்த இரண்டாவது குறைபாடு என்னவென்றால், அவர்கள் விட்டுச் சென்ற நகர அரசுகள் மற்றும் பெலிஸ்தியர்கள், அவர்களின் முழு நிலப்பரப்பும் கைப்பற்றப்படாமல், இஸ்ரேலியர்களுக்கு எதிராக ஒரு ஐக்கிய முன்னணியை உருவாக்கியது, மேலும் அவர்கள் பாலஸ்தீனத்தின் பெரும்பகுதியிலிருந்தும் அவர்களைத் தாக்கி வெளியேற்றினர். கடவுளுடைய உடன்படிக்கைப் பெட்டியையும் அவர்களிடமிருந்து பறித்தார். இறுதியில் இஸ்ரேலியர்கள் ஒரு ஆட்சியாளரின் கீழ் தங்களுக்கென்று ஒரு ஐக்கிய இராச்சியத்தை நிறுவ வேண்டிய அவசியத்தை உணர்ந்தனர், மேலும் அவர்களின் வேண்டுகோளின் பேரில் சாமுவேல் நபி தாலூத்தை கிமு 1020 இல் தங்கள் மன்னராக மாற்றினார். (இது பற்றிய விவரங்கள் சூரா பக்ரா, ருகூ 32ல் வந்துள்ளது).

இந்த ஐக்கிய இராச்சியத்தின் மூன்று ஆட்சியாளர்கள் இருந்தனர்: தாலுத் (கிமு 1020 முதல் 1004 வரை), ஹஸ்ரத் தாவூத் (கிமு 1004 முதல் 965 வரை) மற்றும் ஹஸ்ரத் சுலைமான் (கிமு 965 முதல் 926 வரை). ஹஸ்ரத் மூஸா (அலைஹிஸ்ஸலாம்) அவர்களுக்குப் பிறகு பானி இஸ்ரேல் முழுமையடையாமல் விட்ட வேலையை இந்த ஆட்சியாளர்கள் செய்து முடித்தனர். வடக்குக் கடற்கரையில் ஃபீனீசியர்களின் மாநிலங்களும், தெற்கு கடற்கரையில் பெலிஸ்தியர்களும் மட்டுமே எஞ்சியிருந்தனர், அவை அடிபணிய முடியாது மற்றும் வரி வசூலிப்பதில் திருப்தி அடைந்தன.

ஹஸ்ரத் சுலைமான் (அலைஹிஸ்ஸலாம்) அவர்களுக்குப் பிறகு, பானி இஸ்ராயீல் உலகியல் ஆதிக்கம் செலுத்தியது மற்றும் அவர்கள் ஒருவருக்கொருவர் சண்டையிட்டு இரண்டு தனித்தனி ராஜ்யங்களை நிறுவினர். வடக்கு பாலஸ்தீனம் மற்றும் கிழக்கு ஜோர்டானில் உள்ள இஸ்ரேல் இராச்சியம், அதன் அடித்தளம் இறுதியில் சமாரியா என்று பெயரிடப்பட்டது, மேலும் தெற்கு பாலஸ்தீனம் மற்றும் ஏதோம் பகுதியில் யூதேயா இராச்சியம், அதன் அடித்தளம் ஜெருசலேம் ஆகும். இவ்விரு சாம்ராஜ்யங்களுக்கிடையே கடுமையான போட்டியும் மோதலும் முதல் நாளிலிருந்து தொடங்கி இறுதி வரை தொடர்ந்தது.

அவர்களில், இஸ்ரேல் தேசத்தின் ஆட்சியாளர்கள் மற்றும் குடியிருப்பாளர்கள், அண்டை நாடுகளின் உருவ வழிபாட்டு நம்பிக்கைகள் மற்றும் தார்மீக ஊழல்


அவர்கள்தான் முதல் மற்றும் மிகவும் பாதிக்கப்பட்டவர்கள், இந்த மாநிலத்தின் ஆட்சியாளரான ஆகாப், சீதோனின் பல தெய்வீக இளவரசியான யேசபேலை மணந்தபோது இந்த நிலை உச்சக்கட்டத்தை அடைந்தது. அந்த நேரத்தில், பல தெய்வ வழிபாடு மற்றும் ஒழுக்கக்கேடு இஸ்ரவேலர்களிடையே அரசாங்கத்தின் அதிகாரம் மற்றும் வளங்கள் மூலம் வெள்ளம் போல் பரவத் தொடங்கியது. ஹஸ்ரத் இல்யாஸ் மற்றும் ஹஸ்ரத் இலிஸா (அலைஹிஸ்ஸலாம்) இந்த வெள்ளத்தைத் தடுக்க மிகவும் கடினமாக முயற்சித்தார், ஆனால் இந்த தேசம் அது நோக்கிச் செல்லும் வீழ்ச்சியிலிருந்து தடுக்கப்படவில்லை. இறுதியாக, அல்லாஹ்வின் கோபம் அசிரியர்களின் வடிவத்தில் இஸ்ரேலின் செல்வத்தை நோக்கி திரும்பியது, மேலும் பாலஸ்தீனத்தின் மீது அசீரிய வெற்றியாளர்களின் தொடர்ச்சியான தாக்குதல்கள் கிமு 9 ஆம் நூற்றாண்டிலிருந்து தொடங்கியது. இந்த காலகட்டத்தில், நபி ஆமோஸ் (கிமு 787 முதல் 747 வரை) மற்றும் பின்னர் நபி ஹோசியா (கிமு 747 முதல் 735 வரை) எழுந்து இஸ்ரேலியர்களை ஒருவர் பின் ஒருவராக எச்சரித்தார், ஆனால் அவர்கள் குடிபோதையில் இருந்த அலட்சியத்தால், அவர்கள் எச்சரிக்கப்பட்டனர். எச்சரிக்கை மற்றும் அது வேகமாக ஆனது. ஆமோஸ் தீர்க்கதரிசிக்கு கூட இஸ்ரவேல் ராஜாவால் நோட்டீஸ் கொடுக்கப்பட்டது, நாட்டை விட்டு வெளியேறி, சமாரியா ராஜ்யத்தின் எல்லைக்குள் தனது தீர்க்கதரிசனத்தை நிறுத்தியது. அதன்பிறகு சிறிது காலத்திற்குள் கடவுளின் தண்டனை இஸ்ரவேல் ராஜ்யத்தின் மீதும் அதன் குடிமக்கள் மீதும் விழுந்தது. 721 ஆம் ஆண்டில், அசீரியாவின் கடுமையான ஆட்சியாளரான சர்கோன் சமாரியாவைக் கைப்பற்றி இஸ்ரேலின் செல்வத்தை அழித்தார். ஆயிரக்கணக்கான இஸ்ரேலியர்கள் கொல்லப்பட்டனர், மேலும் 27,000 க்கும் மேற்பட்ட செல்வாக்கு மிக்க இஸ்ரேலியர்கள் நாட்டை விட்டு வெளியேற்றப்பட்டு அசீரியப் பேரரசின் கிழக்கு மாவட்டங்களில் சிதறடிக்கப்பட்டனர். செய்யப்பட்டது, மற்றும் பிற பகுதிகளிலிருந்து புறஜாதிகள் கொண்டுவரப்பட்டு இஸ்ரேலின் பிரதேசத்தில் குடியேறினர், அவர்களில் மீதமுள்ள இஸ்ரேலிய கூறுகளும் அவர்களின் தேசிய கலாச்சாரத்திலிருந்து மேலும் மேலும் அந்நியப்படுத்தப்பட்டன.

யூதேயா என்ற பெயரில் தெற்கு பாலஸ்தீனத்தில் நிறுவப்பட்ட பானி இஸ்ரேலின் இரண்டாவது அரசு, ஹஸ்ரத் சுலைமான் (அலைஹிஸ்ஸலாம்) அவர்களுக்குப் பிறகு மிக விரைவாக பலதெய்வ மற்றும் ஒழுக்கக்கேட்டில் விழுந்தது, ஆனால் அதன் மத மற்றும் தார்மீக வீழ்ச்சி செல்வத்துடன் ஒப்பிடும்போது ஒப்பீட்டளவில் மெதுவாக இருந்தது. எனவே, அவருக்கு இன்னும் கொஞ்சம் அவகாசம் கொடுக்கப்பட்டது. இஸ்ரேல் ராஜ்யத்தைப் போலவே, அசீரியர்கள் அதைத் தொடர்ந்து தாக்கினர், அதன் நகரங்களை அழித்தார்கள், அதன் அடித்தளத்தை முற்றுகையிட்டனர், ஆனால் இந்த அரசை அசீரியர்களால் அழிக்க முடியவில்லை, ஆனால் வரி செலுத்துபவராக மட்டுமே இருந்தார். ஏசாயா தீர்க்கதரிசி மற்றும் எரேமியா தீர்க்கதரிசியின் தொடர்ச்சியான முயற்சிகள் இருந்தபோதிலும், யூதேயா மக்கள் உருவ வழிபாடு மற்றும் ஒழுக்கக்கேட்டை நிறுத்தவில்லை, பின்னர் கிமு 598 இல், பாபிலோன் மன்னர் பக்த நஸ்ர், ஜெருசலேம் உட்பட யூதேயாவின் முழு செல்வத்தையும் அடக்கினார். யூதேயா பாஸின் ராஜா கைதியானார். யூதர்களின் தொடர் அக்கிரமங்கள் இத்துடன் முடிவடையவில்லை, ஹஸ்ரத் எரேமியாவின் விளக்கம் இருந்தபோதிலும், அவர்கள் தங்கள் செயல்களைச் சரிசெய்வதற்குப் பதிலாக, பாபிலோனுக்கு எதிராக கிளர்ச்சி செய்து தங்கள் விதியை மாற்ற முயற்சிக்கத் தொடங்கினர். இறுதியாக, கிமு 587 இல், பக்த நாசர் ஒரு கடுமையான தாக்குதலைத் தொடுத்து, யூதேயாவின் அனைத்து பெரிய மற்றும் சிறிய நகரங்களையும் செங்கல் மூலம் அழித்து, ஜெருசலேமையும் சுலைமானி கோவிலையும் அழித்தார், அதன் ஒரு சுவர் கூட நிற்கவில்லை. ஏராளமான யூதர்கள் தங்கள் பிராந்தியத்தில் இருந்து வெளியேற்றப்பட்டனர் மற்றும் நாட்டிலிருந்து நாடு சிதறடிக்கப்பட்டனர், மேலும் அவர்களது பிராந்தியத்தில் தங்கியிருந்த யூதர்களும் அண்டை நாடுகளால் மோசமாக அவமானப்படுத்தப்பட்டனர் மற்றும் மிதிக்கப்பட்டனர்.

இது இஸ்ரவேல் புத்திரருக்கு எதிராக எச்சரிக்கப்பட்ட முதல் தீமையாகும், மேலும் இது அவர்களுக்கு விதிக்கப்பட்ட முதல் தண்டனையாகும்.




17:6 ثُمَّ رَدَدْنَا لَـكُمُ الْكَرَّةَ عَلَيْهِمْ وَاَمْدَدْنٰـكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَجَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِيْرًا‏

17:6. பின்னர் அவர்கள் மீது வெற்றியடையும் வாய்ப்பை உங்கள்பால் திருப்பினோம்; ஏராளமான பொருள்களையும், புதல்வர்களையும் (தந்தது) கொண்டு உங்களுக்கு உதவி செய்து, உங்களைத் திரளான கூட்டத்தினராகவும் ஆக்கினோம்.




17:7 اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُم ۫وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا ؕفَاِذَاجَآءَوَعْدُالْاٰ خِرَةِلِیَسُوْٓءٗاوُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُواالْمَسْجِدَكَمَادَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْامَاعَلَوْاتَتْبِیْرًا

17:7. நீங்கள் நன்மை செய்தால் உங்களுக்கே நன்மை செய்து கொள்கிறீர்கள். நீங்கள் தீமை செய்தால் அதுவும் உங்களுக்கே(தீமை)யாகும், உங்கள் முகங்களை சோகம் அடையச் செய்வதற்காகவும் பைத்துல் முகத்தஸில் முதல் முறையாக அவர்கள் நுழைந்தது போல் நுழைந்து அவர்கள் தாங்கள் கைப்பற்றிக் கொண்டவைகளை முற்றாக அழித்து விடுவதற்காகவும் (எதிரிகளை) இரண்டாம் வாக்குறுதி வரும்பொழுது (நாம் அனுப்பினோம்).



ibn kaseer


«سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل» حاشیہ نمبر :9

اس دوسرے فساد اور اس کی سزا کا تاریخی پس منظر یہ ہے :

مکابیوں کی تحریک جس اخلاقی و دینی روح کے ساتھ اٹھی تھی ، وہ بتدریج فنا ہوتی چلی گئی اور اس کی جگہ خالص دنیا پرستی اور بے روح ظاہر داری نے لے لی ۔ آخرکار ان کے درمیان پھوٹ پڑ گئی اور انہوں نے خود رومی فاتح پومپی کو فلسطین آنے کی دعوت دی ۔ چنانچہ پومپی سن 63 ق م میں اس ملک کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے یہودیوں کی آزادی کا خاتمہ کر دیا ۔ لیکن رومی فاتحین کی یہ مستقل پالیسی تھی کہ وہ مفتوح علاقوں پر براہ راست اپنا نظم و نسق قائم کرنے کی بہ نسبت مقامی حکمرانوں کے ذریعے سے بالواسطہ اپنا کام نکلوانا زیادہ پسند کرتے تھے ۔ اس لیے انہوں نے فلسطین میں اپنے زیرسایہ ایک دیسی ریاست قائم کر دی ، جو بالآخر سن 40 ق م میں ایک ہوشیار یہودی ہیرود نامی کے قبضے میں آئی ۔ یہ شخص ہیرود اعظم کے نام سے مشہور ہے ۔ اس کی فرماں روائی پورے فلسطین اور شرق اردن پر سن 40 سے 4 قبل مسیح تک رہی ۔ اس نے ایک طرف مذہبی پیشواؤں کی سرپرستی کر کے یہودیوں کو خوش رکھا ، اور دوسری طرف رومی تہذیب کو فروغ دے کر اور رومی سلطنت کی وفاداری کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ کر کے قیصر کی بھی خوشنودی حاصل کی ۔ اس زمانے میں یہودیوں کی دینی و اخلاقی حالت گرتے گرتے زوال کی آخری حد کو پہنچ چکی تھی ۔

ہیرود کے بعد اس کی ریاست تین حصوں میں تقسیم ہو گئی ۔

اس کا ایک بیٹا ارخلاؤس سامریہ ، یہودیہ اور شمالی ادومیہ کا فرماںروا ہوا ، مگر سن 6 ء میں قیصر آگسٹس نے اس کو معزول کر کے اس کی پوری ریاست اپنے گورنر کے ماتحت کر دی اور 41 ء تک یہی انتظام قائم رہا ۔ یہی زمانہ تھا جب حضرت مسیح علیہ السلام بنی اسرائیل کی اصلاح کے لیے اٹھے اور یہودیوں کے تمام مذہبی پیشواؤں نے مل کر ان کی مخالفت کی اور رومی گورنر پونتس پیلاطس سے ان کو سزائے موت دلوانے کی کوشش کی ۔

ہیرود کا دوسرا بیٹا ہیرود اینٹی پاس شمالی فلسطین کے علاقہ گلیل اور شرق اردن کا مالک ہوا ، اور یہی وہ شخص ہے جس نے ایک رقاصہ کی فرمائش پر حضرت یحیی علیہ السلام کا سر قلم کر کے اس کی نذر کیا ۔

اس کا تیسرا بیٹا فلپ ، کوہ حرمون سے دریائے یرموک تک کے علاقے کا مالک ہوا اور یہ اپنے باپ اور بھائیوں سے بھی بڑھ کر رومی و یونانی تہذیب میں غرق تھا ۔ اس کے علاقے میں کسی کلمئہ خیر کے پننپے کی اتنی گنجائش بھی نہ تھی جتنی فلسطین کے دوسرے علاقوں میں تھی ۔

سن 41 میں ہیرود اعظم کے پوتے ہیرود اَگرپا کو رومیوں نے ان تمام علاقوں کا فرماں روا بنا دیا جن پر ہیرود اعظم اپنے زمانے میں حکمران تھا ۔ اس شخص نے برسراقتدار آنے کے بعد مسیح علیہ السلام کے پیروؤں پر مظالم کی انتہاء کر دی اور اپنا پورا زور خدا ترسی و اصلاح و اخلاق کی اس تحریک کو کچلنے میں صرف کر ڈالا جو حواریوں کی رہنمائی میں چل رہی تھی ۔

اس دور میں عام یہودیوں اور ان کے مذہبی پیشواؤں کی جو حالت تھی ، اس کا صحیح اندازہ کرنے کے لیے ان تنقیدوں کا مطالعہ کرنا چاہیے جو مسیح علیہ السلام نے اپنے خطبوں میں ان پر کی ہیں ۔ یہ سب خطبے اناجیل اربعہ میں موجود ہیں ۔ پھر اس کا اندازہ کرنے کے لیے یہ امر کافی ہے کہ اس قوم کی آنکھوں کے سامنے یحیی علیہ السلام جیسے پاکیزہ انسان کا سر قلم کیا گیا مگر ایک آواز بھی اس ظلم عظیم کے خلاف نہ اٹھی ۔ اور پوری قوم کے مذہبی پیشواؤں نے مسیح علیہ السلام کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا مگر تھوڑے سے راست باز انسانوں کے سوا کوئی نہ تھا جو اس بدبختی پر ماتم کرتا ۔ حد یہ ہے کہ جب پونتس پیلاطس نے ان شامت زدہ لوگوں سے پوچھا کہ آج تمہاری عید کا دن ہے اور قاعدے کے مطابق میں سزائے موت کے مستحق مجرموں میں سے ایک کو چھوڑ دینے کا مجاز ہوں ، بتاؤ یسوع کو چھوڑوں یا برابا ڈاکو کو ؟ تو ان کے پورے مجمع نے بیک آواز ہو کر کہا کہ برابا کو چھوڑ دے ۔ یہ گویا اللہ تعالی کی طرف سے آخری حجت تھی جو اس قوم پر قائم کی گئی ۔

اس پر تھوڑا زمانہ ہی گزرا تھا کہ یہودیوں اور رومیوں کے درمیان سخت کشمکش شروع ہو گئی اور 64 اور 66ء کے درمیان یہودیوں نے کھلی بغاوت کر دی ۔ ہیرود اگر پاثانی اور رومی پر وکیوریٹر فلورس ، دونوں اس بغاوت کو فرو کرنے میں ناکام ہوئے ۔ آخرکار رومی سلطنت نے ایک سخت فوجی کارروائی سے اس بغاوت کو کچل ڈالا اور 70 میں ٹیٹس نے بزور شمشیر یروشلم کو فتح کر لیا ۔ اس موقع پر قتل عام میں ایک لاکھ 33 ہزار آدمی مارے گئے ، 67 ہزار آدمی گرفتار کر کے غلام بنائے گئے ، ہزارہا آدمی پکڑ پکڑ کر مصری کانوں میں کام کرنے کے لیے بھیج دیے گئے ، ہزاروں آدمیوں کو پکڑ کر مختلف شہروں میں بھیجا گیا ، تاکہ ایمفی تھیڑوں اور کلوسیموں میں ان کو جنگلی جانوروں سے پھڑوانے یا شمشیرزنوں کے کھیل کا تختہ مشق بننے کے لیے استعمال کیا جائے ۔ تمام دراز قامت اور حسین لڑکیاں فاتحین کے لیے چن لی گئیں ، اور یروشلم کے شہر اور ہیکل کو مسمار کر کے پیوند خاک کر دیا گیا ۔ اس کے بعد فلسطین سے یہودی اثر و اقتدار ایسا مٹا کہ دو ہزار برس تک اس کو پھر سر اٹھانے کا موقع نہ ملا ، اور یروشلم کا ہیکل مقدس پھر کبھی تعمیر نہ ہو سکا ۔ بعد میں قیصر ہیڈریان نے اس شہر کو دوبارہ آباد کیا ، مگر اب اس کا نام ایلیا تھا اور اس میں مدت ہائے دراز تک یہودیوں کو داخل ہونے کی اجازت نہ تھی ۔

یہ تھی وہ سزا جو بنی اسرائیل کو دوسرے فساد عظیم کی پاداش میں ملی ۔




ibn kaseer




"சூரத் பானி இஸ்ராயில்" விளிம்பு எண்: 9

இந்த இரண்டாவது கலவரத்தின் வரலாற்றுப் பின்னணியும் அதற்கான தண்டனையும்:

மக்காபியர்களின் இயக்கம் எழுந்த தார்மீக மற்றும் மத உணர்வு, படிப்படியாக அழிந்து, தூய்மையான உலகியல் மற்றும் ஆன்மா இல்லாத காட்சிகளால் மாற்றப்பட்டது. இறுதியாக, அவர்களுக்கு இடையே பிளவு ஏற்பட்டது, அவர்களே ரோமானிய வெற்றியாளரான பாம்பேயை பாலஸ்தீனத்திற்கு வருமாறு அழைத்தனர். எனவே பாம்பே கிமு 63 இல் இந்த நாட்டை நோக்கி திரும்பி ஜெருசலேமை ஆக்கிரமித்து யூதர்களின் சுதந்திரத்தை முடிவுக்குக் கொண்டு வந்தார். ஆனால் ரோமானிய வெற்றியாளர்களின் நிலையான கொள்கையாக இருந்தது, அவர்கள் கைப்பற்றப்பட்ட பகுதிகளில் தங்கள் நிர்வாகத்தை நேரடியாக நிறுவுவதை விட உள்ளூர் ஆட்சியாளர்கள் மூலம் மறைமுகமாக தங்கள் பணியை செய்ய விரும்பினர். எனவே, அவர்கள் பாலஸ்தீனத்தில் தங்கள் நிழலின் கீழ் ஒரு பூர்வீக அரசை நிறுவினர், அது இறுதியாக கிமு 40 இல் ஹெரோது என்ற புத்திசாலி யூதரின் கட்டுப்பாட்டின் கீழ் வந்தது. இந்த நபர் ஹெரோட் தி கிரேட் என்று அழைக்கப்படுகிறார். அவரது ஆட்சி பாலஸ்தீனம் மற்றும் கிழக்கு ஜோர்டான் முழுவதும் கிமு 40 முதல் 4 வரை இருந்தது. ஒருபுறம், அவர் மதத் தலைவர்களை ஆதரிப்பதன் மூலம் யூதர்களை மகிழ்ச்சியாக வைத்திருந்தார், மறுபுறம், ரோமானிய நாகரிகத்தை ஊக்குவித்து, ரோமானியப் பேரரசுக்கு அதிகபட்ச விசுவாசத்தைக் காட்டி, சீசரின் மகிழ்ச்சியையும் பெற்றார். அந்த நேரத்தில், யூதர்களின் மத மற்றும் தார்மீக நிலை வீழ்ச்சியின் கடைசி எல்லையை எட்டியது.

ஏரோதுக்குப் பிறகு, அவனுடைய ராஜ்யம் மூன்று பகுதிகளாகப் பிரிக்கப்பட்டது.

அவரது மகன்களில் ஒருவரான ஆர்கெலாஸ் சமாரியா, யூதேயா மற்றும் வடக்கு இடோமியாவின் ஆட்சியாளரானார், ஆனால் 6 ஆம் ஆண்டில், சீசர் அகஸ்டஸ் அவரை பதவி நீக்கம் செய்து தனது முழு மாநிலத்தையும் தனது ஆளுநரின் கீழ் ஆக்கினார், மேலும் இந்த ஏற்பாடு 41 ஆம் ஆண்டு வரை தொடர்ந்தது. இஸ்ரவேல் மக்களை சீர்திருத்த ஹஸ்ரத் கிறிஸ்து (அலைஹிஸ்ஸலாம்) எழுந்த சமயம், யூதர்களின் அனைத்து மதத் தலைவர்களும் சேர்ந்து அவரை எதிர்த்து, ரோமானிய கவர்னர் பொன்டியஸ் பிலாட்டால் அவரை தூக்கிலிட முயன்றார்.

ஹெரோதின் இரண்டாவது மகன், ஹெரோது ஆன்டிபாஸ், வடக்கு பாலஸ்தீனம் மற்றும் கிழக்கு ஜோர்டானின் கலிலி பகுதியின் உரிமையாளரானார், மேலும் அவர் ஒரு நடனக் கலைஞரின் வேண்டுகோளின்படி நபி யஹ்யா (அலைஹிஸ்ஸலாம்) அவர்களின் தலையை துண்டித்தவர்.

அவரது மூன்றாவது மகன், பிலிப், ஹெர்மோன் மலையிலிருந்து யர்மூக் நதி வரையிலான பிரதேசத்தின் உரிமையாளரானார், மேலும் அவரது தந்தை மற்றும் சகோதரர்களை விட ரோமானிய மற்றும் கிரேக்க நாகரிகங்களில் மூழ்கியிருந்தார். அவரது பகுதியில், பாலஸ்தீனத்தின் மற்ற பகுதிகளில் இருந்ததைப் போல எந்த நல்ல வார்த்தையும் செழித்து வளர இடமில்லை.

41 ஆம் ஆண்டில், பெரிய ஏரோதுவின் பேரன் ஏரோது அகிரிப்பா, ஏரோதுவின் காலத்தில் ஆட்சி செய்த அனைத்து பகுதிகளுக்கும் ஆட்சியாளராக நியமிக்கப்பட்டார். ஆட்சிக்கு வந்த பிறகு, இந்த நபர் கிறிஸ்துவைப் பின்பற்றுபவர்கள் மீதான அட்டூழியங்களுக்கு முற்றுப்புள்ளி வைத்து, சீடர்களின் வழிகாட்டுதலின் கீழ் நடந்து கொண்டிருந்த கடவுள் பயம், சீர்திருத்தம் மற்றும் அறநெறிகளின் இயக்கத்தை நசுக்குவதில் தனது முழு ஆற்றலையும் செலவிட்டார்.

இந்தக் காலக்கட்டத்தில் பொதுவான யூதர்கள் மற்றும் அவர்களது மதத் தலைவர்களின் நிலையை சரியாக மதிப்பிடுவதற்கு, கிறிஸ்து (அலைஹிஸ்ஸலாம்) அவர்கள் மீது தனது பிரசங்கங்களில் செய்த விமர்சனங்களை ஆய்வு செய்ய வேண்டும். இந்த பிரசங்கங்கள் அனைத்தும் நான்கு சுவிசேஷங்களில் உள்ளன. அப்படியானால் யஹ்யா (அலைஹிஸ்ஸலாம்) போன்ற ஒரு தூய மனிதர் இந்த தேசத்தின் கண் முன்னே தலை துண்டிக்கப்பட்டார் என்றே இதை மதிப்பீடு செய்தால் போதும், ஆனால் இந்த மாபெரும் கொடுமைக்கு எதிராக ஒரு குரல் கூட எழவில்லை. முழு தேசத்தின் மதத் தலைவர்களும் கிறிஸ்துவுக்கு மரண தண்டனையைக் கோரினர், ஆனால் இந்த துரதிர்ஷ்டத்திற்கு இரங்கல் தெரிவித்த ஒரு சில நீதிமான்களைத் தவிர வேறு யாரும் இல்லை. எல்லை என்னவெனில், இன்று உங்களின் பண்டிகை நாள் என்றும், விதிப்படி மரண தண்டனைக்கு உரிய குற்றவாளிகளில் ஒருவரை விடுதலை செய்ய எனக்கு அதிகாரம் உள்ளதா என்றும் அதிர்ச்சியில் இருந்தவர்களிடம் பொன்டியஸ் பிலாத்து கேட்டபோது, ​​இயேசுவையோ அல்லது கொள்ளைக்காரன் பரபாஸையோ விடுவிக்கச் சொல்லுங்கள்? எனவே அவர்களின் மொத்த கூட்டத்தினரும் பரபாவை விட்டு வெளியேறுமாறு ஒருமித்த குரலில் சொன்னார்கள். எல்லாம் வல்ல அல்லாஹ்விடமிருந்து இந்த தேசத்தின் மீது நிலைநிறுத்தப்பட்ட கடைசி ஆதாரம் அது போல் இருந்தது.

இதற்குப் பிறகு, யூதர்களுக்கும் ரோமானியர்களுக்கும் இடையே கடுமையான மோதல் தொடங்கியது, 64 மற்றும் 66 க்கு இடையில், யூதர்கள் கிளர்ச்சி செய்தனர். பதானி மற்றும் புளோரஸ், ரோமானிய விகாரர், இருவரும் கிளர்ச்சியை அடக்கத் தவறினால் ஹெரோது. இறுதியாக, ரோமானியப் பேரரசு இந்த கிளர்ச்சியை ஒரு வலுவான இராணுவ நடவடிக்கையால் நசுக்கியது மற்றும் 70 இல், டைட்டஸ் ஜெருசலேமை வாளால் கைப்பற்றினார். இந்த சந்தர்ப்பத்தில், படுகொலையில் 133,000 பேர் கொல்லப்பட்டனர், 67,000 பேர் சிறைபிடிக்கப்பட்டு அடிமைகளாக்கப்பட்டனர், ஆயிரக்கணக்கான மக்கள் கைப்பற்றப்பட்டு எகிப்திய சுரங்கங்களில் வேலை செய்ய அனுப்பப்பட்டனர், ஆயிரக்கணக்கான மக்கள் கைப்பற்றப்பட்டு வெவ்வேறு நகரங்களுக்கு அனுப்பப்பட்டனர். , மற்றும் கொலிசியங்கள் காட்டு விலங்குகளை விரட்ட அல்லது வாள்வீரர்களுக்கான பயிற்சி பலகைகளாக பயன்படுத்தப்பட்டன. வெற்றியாளர்களுக்காக அனைத்து உயரமான மற்றும் அழகான கன்னிப்பெண்கள் தேர்ந்தெடுக்கப்பட்டனர், மேலும் ஜெருசலேம் நகரமும் கோவிலும் தரைமட்டமாக்கப்பட்டன. அதன்பிறகு, இரண்டாயிரம் ஆண்டுகளுக்கு மீண்டும் எழும் வாய்ப்பு கிடைக்காத வகையில், யூத செல்வாக்கும் அதிகாரமும் பாலஸ்தீனத்திலிருந்து துடைத்தழிக்கப்பட்டு, ஜெருசலேம் புனித ஆலயத்தை மீண்டும் கட்ட முடியாது. பின்னர், சீசர் ஹட்ரியன் நகரத்தை மீண்டும் குடியமர்த்தினார், ஆனால் அது இப்போது இலியா என்று அழைக்கப்பட்டது மற்றும் யூதர்கள் நீண்ட காலமாக அதில் நுழைய அனுமதிக்கப்படவில்லை.

இரண்டாவது பெரிய ஊழலின் விளைவாக இஸ்ரவேல் புத்திரர் பெற்ற தண்டனை இதுவாகும்.


17:8 عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يَّرْحَمَكُمْ‌ ۚ وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا‌ۘ وَجَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِيْنَ حَصِيْرًا‏

17:8. (இதன் பின்னரும் நீங்கள் திருந்திக் கொண்டால்) உங்கள் இறைவன் உங்கள் மீது கருணை புரியப்போதும். ஆனால், நீங்கள் (பாவத்தின் பக்கமே) திரும்புவீர்களானால், நாமும் (முன் போல் தண்டிக்கத்) திரும்புவோம்; மேலும் காஃபிர்களுக்கு ஜஹன்ன(ம் எனும் நரக)த்தைச் சிறைச்சாலையாக ஆக்கி வைத்துள்ளோம்.

Comments